نئی دہلی، 29؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )قوم پرستی محض پرچم لہرانے، نعرے لگانے یا ’بھارت ماتا کی جے‘نہیں بولنے والوں کو سزا دے کر ثابت نہیں کی جا سکتی بلکہ ملک کی ضروریات کو پورا کرنے کا بڑا عزم ہی قوم پرستی ہے۔یہ بات مشہور مورخ رومیلا تھاپر نے کہی ہے ۔انہوں نے اپنی نئی کتاب ’آن نیشنلزم ‘میں لکھا ہے کہ نعرے لگانا یا پرچم لہرانے سے ان لوگوں میں اعتماد کی کمی جھلکتی ہے جو نعرہ لگانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔یہ کتاب تین مضامین کا مجموعہ ہے جنہیں تھاپر، اے جی نورانی اور ماہر ثقافت سدانند مینن نے لکھا ہے اور اس کتاب کو الیف بک کمپنی نے شائع کیا ہے۔تھاپر نے کہاکہ قوم پرستی اپنے سماج کو سمجھنے اور اس سماج کے رکن کے طور پر اپنی شناخت سے جڑا ہے۔اس کو محض پرچم لہرانے اور نعرے لگانے سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا اور جو لوگ ’بھارت ماتا کی جے‘نہیں بولتے ان کو سزا دے کر اسے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔یہ ان لوگوں میں اعتماد کی کمی کی عکاسی کرتا ہے جو نعرے لگانے کامطالبہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ قوم پرستی ملک کی ضروریات کو پورا کرنے کی بڑی وابستگی سے وابستہ ہے نہ کہ نعرے لگانے سے اور وہ بھی نعرے خصوصی علاقے سے ہوں یا ان لوگوں کی طرف ہوں جن کی محدود مقبولیت ہے۔انہوں نے کہاکہ حال ہی میں کہا گیا کہ اصل میں یہ ایک المیہ ہے کہ جو بھی ہندوستانی یہ نعرہ لگانے سے انکار کر تا ہے اسے فوری طورپرغدارقراردے دیا جاتا ہے لیکن جو بھی ہندوستانی جان بوجھ کر ٹیکس نہیں ادا کرتا یا بلیک منی بیرون ملک میں جمع کرا تا ہے، اسے ایساقرار نہیں دیا جاتا۔